Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

پیر کی حاجت کیوں؟؟

 پیر کی حاجت کیوں؟؟

پیر کی حاجت کیوں؟؟
اہل سنت کی شروع سے پہچان رہی ہے کہ وہ کسی اللہ والے کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہیں اور اس سے نسبت قائم کرتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ اس اللہ والے کی نسبت سے اللہ عزوجل ہمیں بھٹکنے سے بچائے گا

لیکن بعض حضرات اس پر اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ نسبت ضروری کیوں ہے؟؟وہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ اگر کسی ادنیٰ سی چیز کو بھی کسی اللہ والے سے نسبت حاصل ہوجائے تو وہ چیز فضیلت والی ہوجاتی ہے

جیسے اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں فرمایا

ان الصفاء والمروة من شعائر الله

کہ صفاء اور مروہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں

دنیا کے اندر بہت بڑے بڑے سونے'چاندی کے اور بہت خوبصورت پہاڑ موجود ہیں

مگر کسی کو اللہ نے اپنی نشانی نہیں کہا ان دو پہاڑوں میں ایسی کیا خاص بات ہے جو یہ اللہ کی نشانیاں ہیں 

وہی اللہ عزوجل کی ایک نیک بندی  سے نسبت حاصل ہے جو ایک نبی کی زوجہ اور دوسرے نبی کی والدہ ہیں

اگر ایک پہاڑ کو کسی نیک بندی کی صحبت سے یہ فضیلت مل سکتی ہے تو انسان کو کیوں نہیں؟؟

اسی طرح آب زم زم کو فضیلت والا پانی کہا گیا 

وجہ ایک اللہ کے نبی کی ایڑھی سے نسبت

اصحاب کہف کے کتے کا قرآن میں ذکر 

پھر روایتوں میں اس کتے کا جنت میں جانا 

وجہ اللہ کے نیک بندوں سے نسبت

ایک چیونٹی کے نام پہ پوری سورت کا قرآن پاک میں ہونا 

وجہ اللہ کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ نسبت کا ہونا

اس کے علاوہ متعدد مثالیں ہیں۔ جو اس مختصر میں لکھنے کی گنجائش نہیں

تو اگر ایک کتا نیک بندوں کی صحبت میں رہ کے فضیلت پا جائے

ایک چیونٹی یا پہاڑ کو اللہ کے نیک بندوں سے نسبت ہوجائے تو وہ افضل ہوجاتے ہیں 

تو پھر انسان اگر کسی نیک بندے کے ساتھ نسبت قائم کرکے تو اس میں کیا حرج ہے 

اسی لیے ہم کسی نیک بندے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اس سے نسبت قائم کرتے ہیں تاکہ ہم گناہگار بھی ان نیک بندوں کے صدقے فلاح کو پہنچ جائیں

اللہ عزوجل اپنے نیک بندوں سے محبت نصیب فرمائے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے